بہار
۔۔۔۔۔۔
کبھی میں نے
محبت کے پرندوں کی
نوا سنجی سے
گھر خالی
نہیں دیکھا
کہاں کس نے
دوامی مہربانی کا
ہنر عالی
نہیں دیکھا
رہے غافل
گلستاں سے
کوئی بیدار خو
خالی نہیں دیکھا
لگائو ہے
لگن رب کی
صفاتی
دلبری
جس کو
سدا میں نے
بروئے کار دیکھا ہے
محبت کو
بہار آثار دیکھا ہے
Related posts
-
ابراہیم اشک
کس لیے کترا کے جاتا ہے مسافر دم تو لے آج سوکھا پیڑ ہوں کل تیرا... -
سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام ۔۔۔۔ شاہد ذکی
سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام مہتابِ محرم کی قسم کم نہيں ہوتا صدياں ہوئيں... -
جوہرِ عباس ۔۔۔ بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں
بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں کاشف الکربؑ کی دہلیز پہ جُھک جاتے...
